All India Milli Council

logo

All India Milli Council

All India Milli Council

                       


  Home
  Introduction
  Aims & Objectives
  Appeal
  Documents
  Nuqta-e-Nazar
  Archive
  Press Release
  Contact Us

Letter from Maulana Rabe Hassani Nadwi

Distribution of Blankets (500) in the villages of Gwalpara Distt. Assam

 


National Convention
on
“Save the Constitution and Build the Nation” on July 30, 2017
Organized by
All India Milli Council at Talkatora Indoor Stadium,
New Delhi


Resolutions English | Resolutions Hindi | Resolutions Urdu | Backgrounder

---------------------------------------------------------------------------


An interaction With Dr. M. Manzoor Alam (General Secretary, All India Milli Council) and Mr. Aleem Ilahi, Managing Editor of Deccan Digest.

---------------------------------------------------------------------------

ملی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں ملک وملت کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں اہم ترین فیصلے
ملی پولیٹکل فورم کے احیاء کا متفقہ اعلان

نئی دہلی18؍ اپریل: آج آل انڈیا ملی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس آئی او ایس بلڈنگ جوگابائی، نئی دہلی میں منعقد ہوا، جس کی صدارت کونسل کے صدر حضرت مولانا عبداللہ مغیثی نے کی جبکہ اس کی مکمل کارروائی جنرل سکریٹری کونسل، ڈاکٹر محمد منظور عالم نے چلائی۔ اجلاس گیارہ مختلف ایجنڈوں پر مشتمل تھا، جس میں بطور خاص ملک کی مجموعی صورتحال سابقہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کا تجزیہ، 2017 کے ممکنہ اسمبلی انتخابات نیز 2019 میں ہونے والے انتخابات کے مدنظر مختلف پہلوؤں پر غوروفکر کیا گیا اور لائحہ عمل مرتب کرنے کے لیے تجاویز پیش کی گئیں۔ اس موقع پر ملک کے اندر سیکولرازم اور دستور وآئین کے تحفظ کی ہر قیمت پر بقا کی کوششوں کا جائزہ لیا گیا اور فی الفور یہ طے کیا گیا کہ ہم ملک کے مختلف حصوں بالخصوص اترپردیش میں خوف وہراس اور یأس وناامیدی کے ازالہ کے لیے مثبت اقدامات کیے جائیں۔ موجودہ حالات کے پیش نظر یہ طے کیا گیا کہ اب سے 19 سال قبل مسلمانوں کی سیاسی شراکت داری کے تعلق سے آل انڈیا ملی کونسل جس ملی پولیٹکل فورم کا قیام عمل میں لائی تھی، موجودہ حالات میں اس بات کی شدت سے ضرورت ہے کہ اس کا احیاء کیا جائے۔ چنانچہ اجلاس عاملہ کے جملہ شرکاء نے اتفاق رائے سے اس بات کی مکمل تائید کی اور آل انڈیا ملی پولیٹکل فورم کی ازسرنو تشکیل پر زور دیا۔ اجلاس کی جانب سے مذکورہ فورم کے لیے ملک کے مختلف حصوں سے اہم ترین شخصیات کے ناموں کی تجویز بھی پیش کی گئی اور طے کیا گیا کہ اس کے اغراض ومقاصد بعینہ وہی ہوں گے جو اس کی تاسیس کے وقت بنایا گیا تھا۔ البتہ اس کے دستور العمل کی تدوین پر زور دیا گیا۔

---------------------------------------------------------------------------



نئی دہلی 28 فروری: ’’اگر قانون کی بالادستی بنائی نہیں رکھی جائے گی تو انصاف کا کوئی مطلب نہیں ہو گا، جب انصاف کمزور ہو جائے گا تو ڈر اور خوف کے حالات پیدا ہو جائیں گے، کیونکہ کوشش ڈرانے کے لیے کی جاتی ہے اس لیے ہمیں ڈرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آئین نے جنگ عظیم دوم کے بعد انسانی حقوق کے 30 نکات میں سے 28 کو شامل کیا اور یہ ہندوستانی آئین کے معمار ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی کوششوں سے ممکن ہو سکا‘‘۔ ان خیالات کا اظہار آج یہاں ماؤلنکر ہال میں آل انڈیا ملی کونسل کے زیر اہتمام ’’امن وانصاف کے تقاضے اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر منعقد قومی کنونشن سے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اے ایم احمدی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ 32 ہر انسان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی گارنٹی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے برطانیہ حکومت کی تائید کی تھی آج وہی لوگ ملک کے حالات بگاڑ رہے ہیں۔ جس کا ہمیں متحد ہو کر سامنا کرنا چاہیے۔

Resolutions प्रस्ताव

------------------------------------------------------------------------------





------------------------------------------------------------------------------



      

------------------------------------------------------------------------------


مسلمان برادران وطن کے ساتھ متحد ہوکر ملک کی جمہوریت کی حفاظت کریں،مقررین کی آواز
15؍مارچ(رضوان اللہ خان) شہر کے عیدگاہ قدوس صاحب میں آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک کی جانب سے کل پیغام امن وانصاف کے عنوان پر جلسۂ عام منعقد کیاگیا، جس میں ملک کے نامور دانشوران نے اسلام کے پیغام امن وانصاف کی روشنی میں حالات حاضرہ کے تقاضوں پر گفتگو کی۔ اس کانفرنس میں پرزور آواز دی گئی کہ مسلکی اختلافات سے بالاتر ہوکر مسلمان داخلی اتحاد پیدا کریں اور ساتھ ہی برادران وطن کے ساتھ اپنے تعلقات کو اور بھی بہتر بنانے کی سع�ئ پیہم کرتے رہیں۔ امیر شریعت مفتی محمد اشرف علی باقوی کی صدارت میں منعقدہ کانفرنس میں جہاں ملک کے نامور دانشوروں نے شرکت کی وہیں ریاست کے سرکردہ مسلم رہنما بھی حاضر رہے۔

------------------------------------------------------------------------

موجودہ حکومت سے مسلمان کس طرح تعلقات قائم کریں؟
ڈاکٹر محمد منظور عالم
ہندستان ایک بڑے جمہوری ملک کی حیثیت رکھتا ہے جہاں مختلف مذاہب، تہذیب، زبان اور رنگ ونسل کی اکائیاں پائی جاتی ہیں اور اس جمہوری نظام کو برقرار رکھنے کے لے ہر پانچ سال پر انتخابات کا نظم کیا گیا ہے، جسے الیکشن کمیشن جو ایک آزاد ادارہ ہے کی حیثیت سے اعلان الیکشن سے نتائج الیکشن تک اسے مکمل دستوری طاقت حاصل ہوتی ہے جس کی بنیاد پر سوائے ایمرجنسی کے اکثر ہر پانچ سال پر انتخابات ہوتے رہے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں گزشتہ 30سالوں میں مختلف نوعیت کی حکومت بنی جسے مخلوط حکومت کا دور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس بار کا الیکشن بھی اگرچہ دستور کے دائرہ اور الیکشن کمیشن کی زیر نگرانی اپنے انجام کو پہونچا لیکن اس کا جو مینڈیٹ آیا وہ اکثر لوگوں کی توقعات اور وہم وگمان کے خلاف تھا۔ اس نتیجہ نے جہاں ایک طرف آر ایس ایس اور اس کی ہمنوا تنظیموں کے اندر ایک وحشیانہ ولولہ پیدا ہوا اور اس ولولہ نے قانون کی دھجی ادھیڑنے اور وحشیانہ سلوک کرنے والوں کے خلاف قانون کے رکھوالوں کے اندر کچھ نہ کرنے کا خوف پیدا کردیا وہاں اقلیات بالعموم اور مسلمان بالخصوص ایک طرح سے متحیر زدہ ہوگئے اور اس وحشیانہ ولولہ کاجو خوف فطری طور سے مسلمانوں کے اندر پایا جاتا تھا وہ جب نظروں کے سامنے آیا تو اس میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس لحاظ سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ڈیموکریسی جو عوام کا، عوام کے لیے، عوام کے ذریعہ کیا جاتا ہے کا نشانہ ایک خاص گروہ بن گیا ہے اور جس سے مختلف کمزور طبقات کو فطری طور پر یہ خوف وہراس ذہن ودماغ کے گوشے میں مضبوط ہوتا ہے کہ ایسی ڈیموکریسی جس میں قانون بھی چھوٹا ہوجائے، نظم ونسق یکطرفہ بن جائے، انصاف کی راہیں مشکل بن جائیں اور انصاف دلانے کے جتنے بھی آئینی ادارے ہیں اس کے اندر یک رخی پیدا ہوجائے تو جمہوریت ایک بے لگام بھیڑ(Mobocracy)یااکثریت کا دبدبہ (Majoritism)کی شکل میں نظر آنے لگے گا اور آج کی تاریخ میں یہ بات نظر آرہی ہے۔

------------------------------------------------------------------------


FEARLESS FORECAST: Manzoor Alam, general secretary of All India Milli Council, gestures during his lecture in Riyadh.

Muslims should wait and watch how Narendra Modi, BJP leader and India’s next prime minister, uses this opportunity to change himself from a polarizing figure with divisive ideology to a leader with an inclusive approach, according to Manzoor Alam, general secretary of All India Milli Council, who is also chairman of the New Delhi-based Institute of Objective Studies (IOS). Read more...

------------------------------------------------------------------------

New Delhi, April 21: Dr. Mohammad Manzoor Alam, General Secretary, All India Milli Council has written to Governor of Gujarat, Union Home Minister, Secretary, Central Cabinet Secretariat, Chief Justice of India, Chief of Indian Bar Council and others over threatening speech by Pravin Togadia in Bhavnagar on April 19 that clearly suggested use of violence if the Muslim owner did not vacate the house within 48 hours. The text of the letter is attached.

------------------------------------------------------------------------

Myth of Modi’s Good Governance

---------------------------------------------------------------------------

Karvan-i-Ittihad-i-Mulk-o-Millat
(Caravan of Unity of Community and Country)
FICCI Auditorium, Saturday, March 8, 2014




AIMC has been organized a grand valedictory convention at FICCI Auditorium, New Delhi on March 8, 2014 at the end of the "Karvan-i-Ittihad-i-Mulk-o-Millat" (Caravan of Unity of Community and Country) in different parts of the country, launched by the state units of the All India Milli Council (AIMC) aimed at uniting different section of the society, in general, and the Muslim community, in particular, to work for the country’s unity in the context of its diversity, preserve its composite culture and its democratic and secular ethos. Resolutions...

---------------------------------------------------------------------------


16th Annual Session of the General Body of All India Milli Council
Sunday and Monday, December 28 and 29, 2013, Corresponding to, 24 and 25 Safar, 1435 Hijri
Venue: Madarsa Arabia Anwarul Uloom, Hanamkunda, Warangal,
Andhra Pradesh (A.P)
Resolutions

---------------------------------------------------------------------------

Memorandum of demands presented to
Shri Akhilesh Kumar Yadav Hon’ble Chief Minister of U.P.

Letter to
Dr. Manmohan Singh Hon’ble Prime Minister of India




A Report...







National Convention
on
“MOVEMENT FOR JUSTICE”
April 6, 2013 at Ramlila Ground, Delhi
All India Milli Council

-------------------------------------------------------------------------



ALL INDIA MILLI COUNCIL, ASSAM UNIT
Relief Distribution to victims of BTAD riots, 2012


2nd phase of relief distribution to victims of BTAD riots were under taken under the supervision of a team of Assam Unit of All India Milli Council, constituted after due consultation with President AIMC, Assam, Jonab Hafiz Rashid Ahmed Choudhury, to carry out relief work during the period 6th October/12 to 8th October/12. The team consisted of Prof. Ali Haidar Laskar (Vice President), Alhaz Inamududdin Ahmed (General Secretary), Jonab Mazid Ali (Treasurer) and Advocate Masud Alom (in charge of Dhubri Branch). More...

    

161/32, Jogabai, Jamia Nagar, (Okhla) New Delhi-110025
Ph.: 011-26985726  Telefax: 91-11-26985727


Previous Conventions


Silent March from Jantar Mantar to Parliament House


AIMC 13th Annual Convention at Kolkata

National Convention
on
"Terrorism and Justice"


Khalsa College, Mal Road,
Delhi on April 27, 2008

Report & Speeches

National Convention on the Feeling of Insecurity among Muslims

At FICCI AAuditorium,
New Delhi

Report
Resolution

Convention
On
POTO AND NATIONAL SECURITY

November 15, 2001
Venue: Rajinder Bhavan, ITO, New Delhi

Reject POTO in Toto
Welcome Address
Resolution

Copyright © 2015 All India Milli Council New Delhi, All rights reserved.