All India Milli Council

logo

All India Milli Council

All India Milli Council

                       


  Home
  Introduction
  Aims & Objectives
  Documents
  Nuqta-e-Nazar
  Archive
  Press Release
  Contact Us

Milli Ittehad [December 2004]

 

 



نئی دہلی 28 فروری: ’’اگر قانون کی بالادستی بنائی نہیں رکھی جائے گی تو انصاف کا کوئی مطلب نہیں ہو گا، جب انصاف کمزور ہو جائے گا تو ڈر اور خوف کے حالات پیدا ہو جائیں گے، کیونکہ کوشش ڈرانے کے لیے کی جاتی ہے اس لیے ہمیں ڈرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آئین نے جنگ عظیم دوم کے بعد انسانی حقوق کے 30 نکات میں سے 28 کو شامل کیا اور یہ ہندوستانی آئین کے معمار ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی کوششوں سے ممکن ہو سکا‘‘۔ ان خیالات کا اظہار آج یہاں ماؤلنکر ہال میں آل انڈیا ملی کونسل کے زیر اہتمام ’’امن وانصاف کے تقاضے اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر منعقد قومی کنونشن سے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اے ایم احمدی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ 32 ہر انسان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی گارنٹی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے برطانیہ حکومت کی تائید کی تھی آج وہی لوگ ملک کے حالات بگاڑ رہے ہیں۔ جس کا ہمیں متحد ہو کر سامنا کرنا چاہیے۔

آل انڈیا ملی کونسل جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کنونشن کی غرض وغایت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے ظلم وناانصافی اور بھیدبھاؤ کے خلاف ایک سنگ میل بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ملی کونسل نے ہمیشہ ہی آئین کی بالادستی کو قائم رکھنے پر زور دیا ہے اور جب کبھی اسے کوئی خطرہ لاحق ہوا ہے تو اس نے آئین کے تحفظ کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ موجودہ حالات اس لحاظ سے کافی تشویشناک ہیں کہ برسراقتدار پارٹی آئین کو بدل کر منواسمرتی کا قانون لانا چاہتی ہے۔ اس لیے ہمیں مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہو گا۔

کنونشن کا افتتاح کرتے ہوئے مشہور سماجی کارکن سوامی اگنیویش نے کہ آج کچھ لوگ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مشتعل بیان دیکر ملک کا اندرونی ماحول خراب کر رہے ہیں۔ اسے لیکر پورے ملک میں گھبراہٹ اور بے چینی ہے۔ جب کہ ان سب کی بنیاد 1932 میں ہی رکھ دی گئی تھی جب ویر ساورکر نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا جس میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ آج ان لوگوں کو شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے جنہوں نے ہندوستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایسی طاقتیں جن کا ہندوستان کی جنگ آزادی میں کوئی کردار نہیں رہا، قومیت کا سبق دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے ہمارے بیچ دیواریں کھڑی کر دی ہے ضرورت ان کو توڑنے کی ہے اور دنیا کے سبھی لوگوں کو امن کے ساتھ انصاف کا پیغام عام کرنے کی ضرورت ہے۔ متحد ہو کر دلتوں، پسماندہ طبقات اور مسلمانوں کے ساتھ کی جا رہی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں۔ آل انڈیا ملی کونسل کی کاوشوں کے ساتھ خود کو منسلک کرتے ہوئے لڑائی کو آگے بڑھانے کی بات کہی۔

معروف سماجی کارکن اور صحافی تیستا شتیلواڑ نے حالات حاضرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت مشکل کے دن ہیں ہمیں ڈر کے ماحول سے نکل کر ملک میں اتحاد کی فضا قائم کرتے ہوئے فسطائی طاقتوں سے لڑنا ہو گا، اس ضمن میں انہوں نے آر ایس ایس کی تعلیمی شاخ کے ایک اہم رکن دیناناتھ بترا کی کتاب کا حوالہ دیا جسے گجرات سرکار نے وہاں کے اسکولوں کے نصاب کے لیے منتخب کیا ہے اس میں مشہور سیاسی رہنما خان عبد الغفار کو نصاب سے نکال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے نوجوان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، اور اب ’’آئین بچاؤ‘‘ کا نعرہ دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ برسراقتدار ایسا طبقہ ہے جس کا آئین میں بالکل یقین نہیں ہے اور وہ جمہوری لڑائی کو کچلنے کے لیے پولیس کا استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے پچھلے اسمبلی انتخابات میں استعمال کی گئی حکمت عملی کا دوسری جگہ بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔ گولولکر کی مشہور کتاب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں، عیسائیوں اور کمیونسٹوں کا کہیں کوئی مقام نہیں ہے۔ آج بڑے پیمانہ پر معاہدے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سبھی لیبرل سوچ کے لوگوں کو متحد کیا جاسکے۔

اسلامک فقہ اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ آج ہمیں ظالم کے ہاتھ کو روکنے کی ضرورت ہے۔ اتحاد پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں ان سبھی لوگوں کی شمولیت ضروری ہے خواہ وہ کسی مذہب اور ملت کے کیوں نہ ہوں، اس کام کو ہمت اور حوصلے سے کرنے کی ضرورت ہے۔ محمد ﷺ کے اس قول کا ذکر کیا جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ سبھی مظلوم متحد ہو کر ظالم کا مقابلہ کریں۔ انہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ اسی طرح کی کانفرنسیں سبھی صوبائی راجدھانیوں میں منعقد کی جائیں جس میں مقررین اور سامعین مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہوں۔ عیسائی رہنما فادر ایم ٹی تھومس نے کہا کہ ہر ہندوستانی شہری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ فرقہ ورانہ ہم آہنگی بنائے رکھنے میں اپنا رول ادا کریں اور خون پسینے سے حاصل کی گئی آزادی کو بنائے رکھے۔

آل انڈیا ملی کونسل کے نائب صدر یاسین علی عثمانی بدایونی نے کہا کہ فسطائی طاقتوں نے اب علم پر حملہ کرنا شروع کر دیا ہے جس سے ملک کے سامنے برے دن آنے کی آہٹ مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف آٹھ دس لوگ ہی پورے ملک کا ماحول خراب کر رہے ہیں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی نسل ملک کو بچائے گی۔ سوامی سروا نند سرسوتی مہاراج نے کہا کہ انہیں انسانیت سے محبت ہے اور اس میں دوستی اور کردار دونوں کا اہم رول ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی مذہب آپس میں نفرت کرنا نہیں سکھاتا ہے، ہمیں ہر حال میں انسانیت کو بنائے رکھنا ہے۔ اترپردیش کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ظفریاب جیلانی نے کہا کہ موجودہ حالات میں مایوسی کی ضرورت بالکل نہیں ہے اور ہمیں امید ہے کہ 2014 میں جو ہم سے غلطی ہوئی ہے وہ اس سال اور اگلے سال ہونے والے انتخابات میں دہرائی نہیں جائے گی۔ بہار اسمبلی انتخابات میں بہار نے جو سبق دیا ہے وہ دیگر ریاستوں کے لیے بھی ایک مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں برادران وطن سے بہتر تعلقات استوار کرنا چاہیے اور یہ اسلام کا پیغام ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ارون کمار ماجھی نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے لیکن اس کے برعکس ہندو احیاء پرستی کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے اور صرف پانچ فیصدی لوگ حکومت کر رہے ہیں۔ دراصل ان کی کوشش برہمن واد لانا ہے۔ ملی گزٹ کے ایڈیٹر ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں نے کہا کہ آج درپیش حالات اس سے پہلے کبھی نہیں تھے اور ان کا مقابلہ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ملک کے سبھی مذاہب کے لوگوں کو کرنا ہو لا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مغربی بنگال، آسام، کیرالا اور دیگر ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں رائے دہندگان اپنی سمجھداری کا ثبوت دیں گے۔ معروف سماجی کارکن وی بی راوت نے کہا کہ آج ملک کے سامنے بہت بڑا خطرہ درپیش ہے۔ آج نوجوان غصے میں ہے، کیونکہ آر ایس ایس برسراقتدار ہے اور وہ بڑے بڑے صنعت کاروں کے ذریعہ ملک کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ ویلفئر پارٹی آف انڈیا کے صدر سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ اس وقت ملک میں غیر اعلان شدہ ایمرجنسی کے حالات بپا ہیں، فاشسٹ طاقتیں حاوی ہو رہی ہیں اور ان کی زد میں سبھی مظلوم اقلیتیں، مزدور اور کسان زد میں ہے۔ مسلمانوں کو دہشت گرد اور غریبوں کو نکسل وادی قرار دیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ایم ایم کشیپ نے کہا کہ ترقی کے بجائے ہمیں کہیں اور استعمال کیا جا رہا ہے، جسے ہمیں سمجھنے اور افواہوں سے بچنے کی ضرورت ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے کہا کہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلباء یونین کے صدر کنہیا کمار نے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ نوجوان موجودہ حکومت سے بہت ناراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن تین چینلوں نے جے این یو سے متعلق سی ڈی سے چھیڑ چھاڑ کیا ہے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔ جمعیۃ العلماء ہند کے سکریٹری مولانا عبد الحمید نعمانی نے کہا کہ اصل لڑائی 90 فیصدی بنام 10 فیصدی کی ہے۔ قوم پرستی کو ہندو قوم پرستی میں تبدیل کرنے کی کوشش ہور ہی ہے لیکن یہ چلنے والا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ سنگھ اور سرمایہ داری کے خلاف لڑ رہے ہیں وہ کافی بیدار ہیں۔ یہ وہی طاقتیں ہیں جنہوں نے گیارہ سو سال پہلے کوشش کی تھی اور پھر وہی منووادی نظام لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کنونشن کا اختتام صدر آل انڈیا ملی کونسل مولانا عبد اللہ مغیثی کی دعاء پر ہوا جس میں انہوں نے حالات سے مقابلے کے لیے اللہ کی نصرت اور تائید طلب کی۔

اس موقع پر جمعیت اہل حدیث کے سکریٹری شیث تیمی، امارت شرعیہ بہار واڑیسہ وجھارکھنڈ کے ناظم مولانا انیس الرحمن قاسمی، نیاز احمد فاروقی، جتھیدار درشن سنگھ اور مولانا مصطفی رفاہی جیلانی ندوی بشمول ملک کے مختلف حصوں سے آئے مندوبین اور مسلم جماعتوں وسیاسی پارٹیوں کے نمائندوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کنونشن میں ملک وملت کے تناظر میں 12 نکاتی قرارداد اتفاق رائے سے پاس کی گئیں۔ نظامت کے فرائض دہلی حج کمیٹی کے سابق چیئرمین ڈاکٹر پرویز میاں نے انجام دیا۔

Resolutions प्रस्ताव
    

161/32, Jogabai, Jamia Nagar, (Okhla) New Delhi-110025
Ph.: 011-26985727  Telefax: 91-11-26985726

Copyright © 2015 All India Milli Council New Delhi, All rights reserved.