All India Milli Council

logo

All India Milli Council

All India Milli Council

                       


  Home
  Introduction
  Aims & Objectives
  Documents
  Nuqta-e-Nazar
  Archive
  Press Release
  Contact Us

Milli Ittehad [December 2004]

 

 

ملی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں ملک وملت کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں اہم ترین فیصلے
ملی پولیٹکل فورم کے احیاء کا متفقہ اعلان
نئی دہلی18؍ اپریل: آج آل انڈیا ملی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس آئی او ایس بلڈنگ جوگابائی، نئی دہلی میں منعقد ہوا، جس کی صدارت کونسل کے صدر حضرت مولانا عبداللہ مغیثی نے کی جبکہ اس کی مکمل کارروائی جنرل سکریٹری کونسل، ڈاکٹر محمد منظور عالم نے چلائی۔ اجلاس گیارہ مختلف ایجنڈوں پر مشتمل تھا، جس میں بطور خاص ملک کی مجموعی صورتحال سابقہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کا تجزیہ، 2017 کے ممکنہ اسمبلی انتخابات نیز 2019 میں ہونے والے انتخابات کے مدنظر مختلف پہلوؤں پر غوروفکر کیا گیا اور لائحہ عمل مرتب کرنے کے لیے تجاویز پیش کی گئیں۔ اس موقع پر ملک کے اندر سیکولرازم اور دستور وآئین کے تحفظ کی ہر قیمت پر بقا کی کوششوں کا جائزہ لیا گیا اور فی الفور یہ طے کیا گیا کہ ہم ملک کے مختلف حصوں بالخصوص اترپردیش میں خوف وہراس اور یأس وناامیدی کے ازالہ کے لیے مثبت اقدامات کیے جائیں۔ موجودہ حالات کے پیش نظر یہ طے کیا گیا کہ اب سے 19 سال قبل مسلمانوں کی سیاسی شراکت داری کے تعلق سے آل انڈیا ملی کونسل جس ملی پولیٹکل فورم کا قیام عمل میں لائی تھی، موجودہ حالات میں اس بات کی شدت سے ضرورت ہے کہ اس کا احیاء کیا جائے۔ چنانچہ اجلاس عاملہ کے جملہ شرکاء نے اتفاق رائے سے اس بات کی مکمل تائید کی اور آل انڈیا ملی پولیٹکل فورم کی ازسرنو تشکیل پر زور دیا۔ اجلاس کی جانب سے مذکورہ فورم کے لیے ملک کے مختلف حصوں سے اہم ترین شخصیات کے ناموں کی تجویز بھی پیش کی گئی اور طے کیا گیا کہ اس کے اغراض ومقاصد بعینہ وہی ہوں گے جو اس کی تاسیس کے وقت بنایا گیا تھا۔ البتہ اس کے دستور العمل کی تدوین پر زور دیا گیا۔

ملک کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں عاملہ نے یہ طے کیا کہ 30؍ جولائی 2017 کو نئی دہلی کے تال کٹورا انڈور اسٹیڈیم میں ایک عظیم الشان قومی کنونشن کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں سماج کے مختلف میدان کے ماہرین، دانشوران، قانون داں، سیاسی ماہرین نیز حقوق انسانی کے رہنماؤں اور مسلمانوں کی مختلف تنظیموں، جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں کے ساتھ ساتھ سیکولر اقدار پر یقین رکھنے والے غیرمسلم قائدین کو بھی مدعو کیا جائے گا اور مجموعی صورتحال کے ازالے کی قومی سطح پر منظم، مربوط اور مثبت کوشش کی جائے گی۔
یوپی کے حالیہ انتخابی نتائج اور پیدا شدہ صورتحال پر سنجیدہ غوروخوض کرتے ہوئے متفقہ طور پر مؤرخہ 13 یا 14؍ مئی 2017 کو ایک خصوصی کنونشن گورکھپور میں منعقد کیا جائے گا، جس کا دعوت نامہ سماج کے سربرآوردہ شخصیات اور ملی وفلاحی تنظیموں کو جلد بھیجا جائے گا۔ واضح رہے کہ مختلف جہتوں سے مختلف ایجنڈوں پر پیش کردہ تجاویز کی روشنی میں آل انڈیا ملی کونسل جلد ہی ملک کے مختلف شہروں کے تنظیمی دوروں پر بھی غور کر رہی ہے۔

اجلاس عاملہ میں نائبین صدر میں ڈاکٹر یاسین علی عثمانی بدایونی، مولانا عبدالعلیم بھٹکلی کے علاوہ ارکان عاملہ میں مولانا کاکاسعید احمد عمری، تمل ناڈو، ایس ایم عبد الرحیم پٹیل، تمل ناڈو، سید جے عنایت اللہ، تمل ناڈو، مفتی رضوان قاسمی تاراپوری، احمدآباد، ڈاکٹر انوار صدیقی، مالیر کوٹلہ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، حیدرآباد، انعام الدین احمد ایڈوکیٹ، گوہاٹی، مولانا محمد مسیح عالم جامعی، بھوپال، محمد رحیم الدین انصاری، حیدرآباد، مولانا آس محمد گلزار قاسمی، میرٹھ، ای ابوبکر حسن، کالی کٹ، مولانا محمد ریاض الحسن ندوی، سہارنپور، مشتاق احمد ایڈوکیٹ، نئی دہلی، ڈاکٹر ظہیر احمد خان، بلندشہر، عبید الرحمن وفا صدیقی، بھوپال، منیر احمد خان، اندور، مشرف حسین، دہلی، محمد قمر عالم، کاسگنج، پروفیسر عبدالمتین، پٹنہ، کے رحمن خان، بنگلور، سلیمان خان، بنگلور، ارشد جمال، مؤ، غلام محمد، ہوگلی، شہاب الدین احمد، گوہاٹی، مولانا طارق شفیق ندوی، گورکھپور، ڈاکٹر قمر الاسلام، گلبرگہ، پروفیسر سید علی محمد نقوی، علی گڑھ، ڈاکٹر محمد اصغر چلبُل، گلبرگہ، عادل سلیمان، گلبرگہ، قاضی عظمت شاہ مکی، بھوپال، مولانا عبدالمالک مغیثی، سہارنپور، مولانا عقیل احمد قاسمی، میرٹھ کے علاوہ متعدد اصحاب شریک تھے۔

    

161/32, Jogabai, Jamia Nagar, (Okhla) New Delhi-110025
Ph.: 011-26985727  Telefax: 91-11-26985726

Copyright © 2015 All India Milli Council New Delhi, All rights reserved.